Pdf-ولی کی شاعری کی خصوصیات

 

(toc)

ولی دکنی کی شاعرانہ خصوصیات






 ولی کو اردو کا سب
سے پہلا باقاعدہ غزل گو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ابتداء میں ولی نے قدیم رنگ میں شاعری
کا آغاز کیا تھا مگر اپنے سفر دہلی کے دوران شاہ سعد اللہ گلشن کے مشورے پر ریختہ
گوئی کی ابتدا کی اور اسی میں عظمت اور انفرادیت کا ثبوت دیا۔ یہیں سے ان کی شاعری
میں ایک نئے باب کا آغاز ہوتا ہے۔ ان کی غزل گوئی کے جائزے کے بعد ان کی شاعری کی
درج ذیل نمایاں خصوصیات کا تعین کیا جا سکتا ہے۔



 

 ولی کی شاعری کی خصوصیات 

  •  زبان و بیان
  •  ولی جمال دوست شاعر
  •  زندگی اور کائنات کا حسن
  •  سوزوگداز
  •  خارجیت کا تصور
  •  تراکیب، تشبیہات اور استعارات
  •  سادگی اور صفائی
  •  تصوف
  •  حسن و عشق
  •  سراپا نگاری
  •  صیغہ تانیث کا استعمال
  •  نشاطیہ رنگ آمیزی

زبان و بیان:

               ولی دکنی سے پہلے اگرچہ دکن میں شاعری کی جارہی تھی لیکن اس شاعری کا انداز اردو شاعری کے عام مزاج
سے بہت مختلف تھا۔ زبان و بیان کے اعتبار سے شاعری میں علاقائی خصوصیات نمایاں تھی
اور غزل کے لیے  زبان و بیان کی پختگی کی
بے حد ضرورت تھی۔ ولی کی ابتدائی شاعری میں بھی مقامی اور دکنی لوک گیتوں کا رنگ
ملتا ہے۔ لیکن ولی نے خوش قسمتی سے دہلی کا سفر کیا اور دہلی میں شاہ سعد اللہ گلشن
نے ولی کو مشورہ دیا کہ فارسی شاعری سے استفادہ کریں۔ چنانچہ اس طرح ولی کی شاعری
میں زبان اور بیان دونوں اعتبار سے ایک انقلاب رونما ہوا۔ ولی نے فارسی کی خوبصورت
تراکیبوں اور ہندی فارسی کے منتخب الفاظ کی آمیزش سے اپنے کلام کو آراستہ کیا۔  اس اعتبار سے ولی نے از خود زبان کے سانچوں کو
بھی مرتب کیا۔ اردو شاعری کو ایک خاص زبان دی۔ یہی انفرادیت ان کو اردو شاعری میں
بلند مقام پر فائز کرتی ہے۔



 



ولی جمال دوست شاعر:



               ولی کی شاعری میں
حسن و جمال کا موضوع بڑا اہم ہے۔ ولی سے پہلے کسی شاعر نے حسن و جمال کا بھرپور اور
کامیاب تصور نہیں دیا۔ اسی لئے ڈاکٹر سید عبداللہ نے ولی کو جمال دوست شاعر کا لقب
دیا ہے۔ ان کی حسن پرستی میں فتگی کی لہریں پیدا ہوتی ہے۔ ان کی حسن پرستی میں سر
مستی اور سر خوشی کا رنگ نمایاں محسوس ہوتا ہے۔  وہ حسن کو ایک تجربے کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ جس
سے ان کی روح اور جسم میں سرمستی کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کے حسن پرستی
صحتمندانہ انداز کی ہے۔ وہ حسن کو کسی بھی ایسے تجربے کی بنیاد نہیں بناتے جو جنسی
ہو اور جس سے صرف نفسانی خواہشات کا تعلق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ولی کے ہاں جنسیت و
احساساتِ حسن آفاق تصورات کا حامل محسوس ہوتے ہیں۔



 



 نکل اے دلربا گھر
سوں کے وقت بے حجابی ہے



 چمن   میں   چل    بہار   نسترن   ہے    ماہتابی   کا



 



 زندگی اور کائنات

کا حسن:



                ولی حسن و جمال کے
شعری تجربات بیان کرتے ہوئے کسی غم یا دکھ کا اظہار نہیں کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ جمال
دوست ہیں۔ اس لئے کائنات کی ہر شے میں جمال دیکھتے ہیں۔ ان کی نظر زندگی اور کائنات
کے تاریک پہلوؤں کو نہیں دیکھتی وہ صرف روشن پہلوؤں کا نظارہ کرتی ہے جہاں خوشی
امید اور مسرت کی سدا بہارہے۔ اور وہ حسن سے مایوس ہوکر آہیں بھی نہیں بھرتے اس لیے
کہ وہ بامراد عاشق ہیں اور محبوب کے حسن کا دیدار انہیں حاصل ہے۔ ان کی شاعری میں
زندگی اور کائنات کا حسن بھی نظر آتا ہے۔



 



 صنم تجھ دیدہ و دل
میں گزر کر



 ہوا ہے باغ ہے آب
رواں ہے



 



سوزوگداز:



           غزل چونکہ معاملات مہر
و محبت اور واردات عشق و عاشقی کی داستان ہے۔ اس راہ کے مسافر کو قدم قدم پر ہجر و
فراق کی تلخیاں سہنا پڑتی ہیں، کتنی رکاوٹ عبور کرنا پڑتی ہیں،جی جی کر مرنا اور
مر کر جینا پڑتا ہے۔ اس لیے ان واردات و تجربات کے بیان میں سوزوگداز کا عنصر
لازمی طور پر شامل ہوتا ہے۔ ولی کی غزلوں میں سوزوگداز یقیناً موجود ہے۔ مگر اس کی
کیفیت میر کے سوز و گداز سے مختلف ہے۔ اسی لئے میر کے ہاں سوزوگداز کی شدت ہے جبکہ
ولی کے ہاں  اس کے برعکس سوزوگداز میں بھی
ان کا احساس جمال کارفرما محسوس ہوتا ہے۔



 



 نہ ہوئے اسے جگ میں
ہرگز قرار



 جسے عشق  کی   بے   قراری   لگے



 



خارجیت کا تصور:



 کیوں کہ ولی جمال
دوست شاعر ہے اس لیے وہ داخلیت کے اندھیرے کمرے میں بند نہیں رہ سکتے۔ بلکہ ان کے
ہاں خارجیت کا بھی بھرپور نظارہ ہے۔ وہ باہر کی دنیا کی رنگینیوں سے لطف اندوز اور
محظوظ ہوتے ہیں۔ وہ صرف اپنی ذات کے اندر آنکھیں بند کرکے گم نہیں ہو گئے تھے۔ ان کی
آنکھیں زندگی اور کائنات کے حسن و جمال کا مسلسل مشاہدہ کرتی رہتی ہیں اور جہاں
جہاں ان کے دیدہ بینا کے لیے سامان نظارہ ملتا ہے وہ لطف و سرور حاصل کرتے ہیں۔ ان
کی خارجیت بڑی نکھری ہوئی اور جاندار ہے۔  اس میں صرف خارج کے کوائف کا احوال ہی قلم بند نہیں
کیا گیا ۔ولی کا ذاتی نقطہ نظر ہر موقع پر موجود رہتا ہے وہ کائنات کا مطالعہ اس کے
تحت کرتے ہیں،  خارجیت کا بیان کرتے ہوۓ حسن
و جمال کے تصورات کو پیش پیش  رکھتے ہیں۔



 



تراکیب،  تشبیہات اور استعارات:



            ولی نے فارسی کی
خوش رنگ اور خوشنما تراکیب سے اپنے اشعار کو سنوارا ہے اور استعارات سے اپنے کلام
میں جدت پیدا کی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ولی کی شاعری تشبیہات کی ایک کان ہے جس میں
جواہرات بھرے ہوئے ہیں۔ پھر یہ کہ ان کی  تشبیہات اپنے ملک اور ماحول سے بھی تعلق رکھتی
ہیں۔ جس سے  تشبیہات ، عام فہم اور دلکش ہو
جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر:



 



       تیری زلفاں
کی طولانی کوں دیکھے



        مجھے   لیلِ   زمستاں    یاد   آوے



 



سادگی اور صفائی:



 ولی کی شاعری کی
ایک اہم خصوصیت سادگی، صفائی اور شیرینی ہے۔ ان کے بعض اشعار کی زبان تو اتنی رواں
اور سادہ ہے کہ اس پر آج کی ترقی یافتہ زبان اردو کا گمان ہوتا ہے۔



 



       زندگی       جام     عیش     ہے



       لیکن فائدہ کیا اگر دوام نہیں



                      مفلسی سب بہار کھوتی ہے



                        مرد  کا   اعتبار   کھوتی   ہے



 



 ولی کے کلام میں
ایسے سادہ اور بہترین اشعار بھی ملتے ہیں جن کو اس زمانے کے مروجہ الفاظ سے نکال
کر آج کے مروجہ الفاظ ڈال دیئے جائے تو شعروں کی عظمت اور ان کی موسیقی کہاں سے
کہاں پہنچ جاتی ہے۔ مثلاً:



 



 سجن تم مکھ سئیس الٹو
 نقاب آہستہ آہستہ



 کہ   جیسے  ہو    طلوع  آفتاب   آہستہ   آہستہ



            جلوہ گر جب سوں وہ
جمال ہوا



              نور     خورشید         پائمال      ہوا



 



تصوف:



 ولی دکنی مزاج کے
اعتبار سے جہاں گشت اور درویش صفت انسان تھے۔ انہیں تصوف و عرفان سے خاصی رغبت تھی
اور ان کا بیشتر وقت خانقاہوں میں گزرا۔ اس لیے ان کی شاعری میں تصوف کے مضامین کی
بھی کثرت ہے اور وہ عشق مجازی میں عشق حقیقی کا سراغ لگاتے ہیں۔ جس سے غزل میں ایک
جان سی آ جاتی ہے۔ مثلا ولی محبوب حقیقی کے بارے میں کہتے ہیں:



 



 تجھ   حسن   عالمتاب   کا  جو  عاشق و شیدا  ہوا



 ہر خوبرو کے حسن کے
جلوہ سوں بے پروا ہوا



 



حسن و عشق:



             ولی دکنی مزاج کے
اعتبار سے حسن پرست اور جمال دوست انسان بھی تھے۔ اس لیے ان کی غزلوں میں حسن و عشق
مضامین کی کثرت ہے اور ان کی شاعری میں یہ رجحان اپنی تمام تر صحت مندی اور تازگی
کے ساتھ موجود ہے۔ بقول ڈاکٹر سید عبداللہ ولی کا کوئی ایک محبوب نہیں وہ ہر پھول
کے بھنورے ہیں۔ مثلاً:



 



 خوب رو خوب کام
کرتے ہیں



 ایک نگہ میں غلام
کرتے  ہیں



 مت   آئینہ کو  دکھلا   اپنا  جمال   روشن



 تجھ مکھ کی تاب دیکھے
آئینہ آب ہو گا



 



سراپا نگاری:



             ولی دکنی نے اردو
غزل میں بڑی عمدگی سے سراپا نگاری کی ہے۔ وہ محبوب کی تعریف سر کے بالوں سے لے کر
پاؤں تک کرتے ہیں۔ انہوں نے محبوب  کے جسم ،اس کے چہرے، رخسار ،چشم و ابرو، خدوخال، لب
و دہن، قد و قامت، زلف و گیسو اور ناز و ادا کا ذکر بڑی عمدگی کے ساتھ کیا ہے۔  اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ولی اگر شاعر نہ
ہوتا تو مصور اور نقاش ضرور ہوتا۔



 



 اے ولی دل کو آب
کرتی ہے



 نگہ     چشم    سرمگیں    کی    ادا



 موج دریا کو دیکھنے  مت  جا



 دیکھ تو زلف عنبریں
کی ادا



 صیغہ تانیث کا
استعمال:



               ہمارے کلاسیکل شعراء
جہاں محبوب کے لیے مذکر کا صیغہ استعمال کرتے ہیں وہاں ولی دکنی نے محبوب کے لئے
براہ راست تانیث کا صیغہ استعمال کیا ہے اور ایسا انھوں نے ہندی شاعری کے زیر اثر
کیا ہے۔ اس طرح ان کی شاعری ہندی اور فارسی شاعری کے اثرات کا حسین امتزاج ہو جاتی
ہے۔ مثلا ایک شعر دیکھئے:



 



 تجھ نیہ میں دل جل جل
جوگی کی کیا صورت



 یک بار اسے موہن   چھاتی   سوں    لگاتی   جا



 



نشاطیہ رنگ آمیزی:



             اگرچہ اردو اور
فارسی شاعری کا مزاج غم انگیز رہا ہے، مگر ولی دکنی کی شاعری میں نشاطیہ رنگ بدرجہ
اتم پایا جاتا ہے۔ انہوں نے شاعری میں ایک خاص قسم کی خوش دلی اور امید پیدا کی۔ ولی
کے اس انداز کی پیروی مصحفی اور ان کے بعد حسرت جیسے شاعروں نے بھی کی۔



 مختصراً ولی نے
اردو شاعری میں زبان و بیان کی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ موضوعات میں بھی تنوع پیدا
کیا ہے اور وہ دکنی دبستان کے غزل گو شعرا کے نمائندہ شاعر قرار پاتے ہیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

#buttons=(Ok, Go it!) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Ok, Go it!